احد تمیمی نوجوانوں کی مزاحمت کی مثال ہیں، محمود عباس

رملّہ : اسرائیلی عقوبت خانے میں آٹھ ماہ قید رہنے والی احد تمیمی نے کہا ہے کہ ’میری خوشی اس وقت مکمل ہوگی جب اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسیطینی رہا ہوں گے اور فلسطین سے صیہونیت کا قبضہ اور تسلط ختم ہوگا‘۔

تفصیلات کے مطابق ظالموں کے خلاف مزاحمت کی علامت فلسطینی لڑکی عہد تمیمی نے جیل سے رہائی کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس سے صدراتی محل میں ملاقات کی، فلسطینی صدر نے عہد تمیمی کو جیل سے رہائی پانے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کے خلاف ڈٹ کرمقابلہ کرنے کی تعریف کی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ مارنے کی پاداش میں آٹھ ماہ جیل کی سختیاں برداشت کرنے والی نوجوان عہد تمیمی سے ملاقات کے دوران محمود عباس نے عہد تمیمی کو نوجوانوں کے لیے مثال قرار دیا۔

صیہونی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی عہد تمیمی نے فلسطینی صدر سے ملاقات کرنے سے قبل فلسطین کے حریت رہنما یاسر عرفات کی قبر پر حاضری دی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی جیلوں میں مقید خواتین کا حوصلہ چٹان سے زیادہ مضبوط ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عہد تمیمی نے کہا کہ فلسطین سے اسرائیل کے ناپاک وجود کے خاتمے اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی تک مزاحمت کی تحریک جاری رہے گی۔

عہد تمیمی کا میڈیا سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ صیہونی عقوبت خانوں میں تمام فلسطینی رہا ہوں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عہد تمیمی کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی مظالم کے خلاف ہماری صدائے احتجاج پوری دیا میں پھیل چکی ہے لہذا اسیروں کی رہائی کے لیے چلنے تحریکوں کا ساتھ ہماری ذمہ داری ہے۔

فلسطین کی نڈر بیٹی عہد تمیمی نے کہا کہ میری رہائی کی خوشی اس وقت ناتمام ہے جب فلسطین کی سرزمین صیہونی قبضے اور تسلط سے آزاد نہیں ہوجاتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے