اسلام آباد: وزیر داخلہ کی امید پوری نہ ہو سکی، مذہبی جماعتوں کا دھرنا جاری

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے اتوار کو مذہبی جماعتوں کا دھرنا ختم کروانے کی امید پوری نہ ہو سکی ہے اور دارالحکومت میں مذہبی جماعتوں کا دھرنا تاحال جاری ہے۔

اس دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہ بدستور بند ہے اور شہریوں کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔

خیال رہے کہ مذہبی وسیاسی جماعتوں کے دھرنے کی وجہ سے گذشتہ چار روز سے ایکسپریس وے پر موجود فیض آباد پل ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔

انتظامیہ نے ٹریفک کے لیے متبادل روٹس تو فراہم کیے ہیں تاہم اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملحقہ علاقوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

’احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے بچہ ہلاک ہوا‘

ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی اس لیے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اگرچہ حکومت نے اس ترمیم میں ہونے والی غلطی کو درست کرتے ہوئے حلف نامے کو اس کی پرانی حالت میں بحال کر دیا ہے تاہم مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

گذشتہ روز بی بی سی سے گفتگو میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا تھا کہ پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین کے چہلم کے جلوس کی وجہ سے حکومت نہیں چاہتی تھی کہ کسی بھی قسم کی کوئی بد مزگی پیدا ہو کیونکہ اگر کوئی کارروائی ہوتی تو تنازع بن جاتا۔

انھوں نے کہا کہ ’دھرنے والوں کو ہم نے سمجھایا ہے، ان کے مطالبات پر بات چیت کی ہے تو امید ہے کہ اتوارکی رات تک انھیں وہاں سے ہٹانے کامیاب ہو جائیں گے۔‘

کیا وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہو جائیں گے کیونکہ دھرنے کے شرکا کا مطالبہ یہی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے