امریکا کی نئی افغان پالیسی پر غور کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری

وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے جس میں امریکا کی نئی افغان پالیسی سمیت ملکی معاشی صورتحال پر غور کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج شام 7 بجے طلب کیا گیا تھا تاہم ایکنگ اجلاس کے فوری بعد کابینہ ارکان کو بھی طلب کرلیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹری خزانہ نے ٹیکس محصولات اور ٹیکس بڑھانے کے امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ریونیو اور ٹیکس وصولوں کے نظام میں بہتری کے اقدامات اٹھائے ہیں اور ٹیکس بیس بڑھانے سے جاری اور نئے منصوبوں کی تکمیل میں مدد ملے گی۔

وفاقی سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں میں ٹیکس وصولوں کی شرح میں خاطر خواہ بہتری آئی اور ٹیکس بیس کو بڑھانے اور ٹیکس ادائیگیوں کے نظام کو فعال کرنے کا جامع میکنزم بنایا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ٹیکس محصولات کو فلاحی منصوبوں، عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے پر خرچ کرنا ترجیح ہے، موجودہ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں سے معاشی اعشاریے بھی بہتر ہوئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر مینجمنٹ میں ٹیکس وصولیوں کے نظام کا بنیادی کردارہ ہے اور گورننس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ٹیکس وصولی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات اور نئی افغان پالیسی پر غور کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کو قومی سلامتی سے متعلق بریفنگ بھی دیے جانے کا امکان ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے واشنگٹن کو دو ٹوک پیغام دیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی بھی پہلی پالیسی کی طرح ناکام ہوگی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان روز اول سے کہہ رہا ہے کہ افغانستان میں فوجی حکمت عملی نہ تو پہلے کامیاب ہوئی اور نہ ہی مستقبل میں کامیاب ہوگی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 اگست کو پاکستان، افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کا پالیسی اعلان کے موقع پر خطاب کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں مگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔

پاکستان کے خلاف سخت رویہ اپناتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے پاکستان کو فائدہ اور دوسری صورت میں نقصان ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں بھارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کے معترف ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے