بچیوں کے اغوا، ریپ اور قتل کے پیچھے بظاہر ایک ہی شخص

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کی پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے بظاہر ایک ہی شخص کا کھوج لگانے کے لیے پولیس کے دو سو سے زیادہ افسران کوشاں ہیں۔

منگل کو قصور میں لاپتہ ہونے والی آٹھ سالہ زینب کی تشدد زدہ لاش ان کے گھر سے دو کلومیٹر دور ملی ہے۔

پولیس حکام کہنا ہے کہ قصور شہر میں اغوا اور جنسی تشدد کے بعد بچوں کے قتل میں مبینہ طور پر ایک ہی شخص ملوث نظر آتا ہے۔

قصور میں اس واقعے کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لے لیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت مرکزی شہر کے مختلف تھانوں میں چھ سے زائد کیسز ایسے ہیں جن بچوں کو اغوا کے بعد قتل کر کے ان کی لاشوں کو اسی علاقے میں پھینک دیا گیا۔

زینب اور دیگر بچوں کے کیسز کی تفتیش سے منسلک پولیس افسر افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ قصور کی آبادی چھ سے سات لاکھ ہے اور ہمارے دو سو سے زیادہ افسران پر مشتمل جے آئی ٹی چھ ماہ سے اسی قسم کے کیسز کو دیکھ رہی ہے لیکن ابھی تک بچوں کا قاتل ڈھونڈنے میں مشکلات اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘معمول میں تو بہت سے کیسز آتے ہیں لیکن یہ کیسز ان سے ہٹ کر ہیں۔ ابھی تک گمان یہی ہے کہ ایک ہی بندہ ہے جو بچوں کو راستے میں سے اٹھاتا ہے اور ان کی ڈیڈ باڈی کو پھینک دیتا ہے اور ان کیسز میں زیادہ بچے ہیں۔’

سب انسپکٹر افتخار احمد نے بتایا کہ 2016 کے بعد سے اب تک وفقے وقفے سے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں۔

‘جہاں تک ہماری تفتیش ہوئی ہے تو ان واقعات میں ملوث شخص کوئی ذہنی مریض ہے۔ جیسے لاہور میں جاوید نامی شخص نے کیا تھا۔ اس کی کیٹگری مختلف ہے، زیادتی کی کوشش کرتا ہے، سانس روک دیتا ہے اور اسی دوران بچے کو مار دیتا ہے۔’

زینب کیس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے