جدید ٹیکنالوجی برطانوی شہریوں کو چڑچڑا بنا رہی ہے، سروے رپورٹ

لندن: سروے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی برطانوی شہریوں کو چڑچڑا بنا رہی ہے۔

سروے میں 2 ہزار برطانوی شہریوں سے کی گئی اسٹڈی میں لوگوں کے غصے کے اسباب اور غصہ آنے کے وقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی جن لوگوں سے بات کی گئی ان میں سے کم و بیش 68 فیصد افراد نے ٹیکنالوجی کے درست طریقے سے کام نہ کرنے کی صورت میں غصے میں اضافے کا اعتراف کیا ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق کمپیوٹر پر گھومتا ہوا پہیہ 6 منٹ میں جھگڑے میں تبدیل ہوجاتا ہے، وائی فائی کے بغیر صرف 8.1 منٹ میں شہریوں کا پارہ آسمان سے جالگتا ہے جبکہ فون کوریج میں گڑبڑ 7 منٹ میں شہری غصے میں آجاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی ناکامی ہی برطانوی شہریوں کے غصے کا سبب نہیں بلکہ فرنیچر سے بھرے ہوئے فلیٹ کو دیکھ کر بھی 13 منٹ میں غصہ آسمان کو چھونے لگتا ہے جبکہ بعض افراد صرف 11 منٹ میں بچوں پر غصے کا اظہار کرکے بددماغی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

گزشتہ سال 20 فیصد افراد نے گھر کو الٹ پلٹ کردیا، 18 فیصد نے غصے میں شاپنگ ترک کردی اور کچھ خریدے بغیر اسٹور سے باہر نکل گئے، کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہماری توقعات کی سطح کم ہوگئی ہے اور ہماری اونچی توقعات نے ہمیں زیادہ بے صبرا بنادیا ہے۔

اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، نیٹ سروس متاثر ہونے کی صورت میں 7 فیصد افراد نے اپنا فون زمین پر پٹخ دیا اور 2 فیصد اتنا آگے بڑھے کہ انہوں نے کمپیوٹر کی اسکرین توڑ ڈالی۔

سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اوسط برطانوی 15 دن میں ایک دفعہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور غصے میں اپنی چیزوں کا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے