حافظ سعید: حالیہ کارروائیاں امریکہ اور انڈیا کے دباؤ پر کی جا رہی ہیں

کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے خلاف حالیہ کارروائیاں امریکہ اور انڈیا کے دباؤ پر کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی نے حافظ سعید سے پاکستان کے وزیرِ دفاع کے اُس بیان کے بارے پوچھا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف حالیہ کارروائیاں آپریشن ردالفساد کا حصہ ہیں لیکن آپریشن ردالفساد تو دہشتگردوں کے خلاف ہے تو کیا حکومت نے جماعت الدعوۃ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا ہے، جس پر حافظ سعید نے کہا کہ اُن کے پاس تو ایسا کوئی نوٹس نہیں آیا اور نہ ہی اِس کی کوئی بنیاد ہے۔
ان کا کہنا تھا ‘یہ امریکی دباؤ ہے اور ساتھ ہی یہ ساری باتیں انڈیا کی طرف سے کی جا رہی ہیں اور وزیرِ دفاع انھیں کی زبان بول رہے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ وہ عدالتوں سے ہمیشہ سرخرو نکلے ہیں لیکن کچھ سیاسی لوگ اُن کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

حافظ سعید سے جب کچھ عرصے قبل آنے والی اُن خبروں کے بارے میں پوچھا گیا کہ امریکہ انھیں ڈرون حملے کا نشانہ بنانا چاہتا ہے تو انھوں نے اِس کی تردید کی اور کہا کہ جماعت الدعوۃ کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کوئی روابط نہیں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ کا افغانستان کے حالات سے کوئی تعلق نہیں البتہ وہ یہ ضرور کہتے رہے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔

‘میں اس کی وجہ یہ سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو حقانی نیٹ ورک سے مسئلہ ہے اور انڈیا کو جماعت الدعوۃ سے اور یہ دونوں ملک جب آپس میں ملتے ہیں تو دونوں کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔’

حافظ سعید نے کہا کہ اس دور میں جنگیں مسائل کا حل نہیں اور انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو درست ہونا چاہیے لیکن جو بنیادی مسئلہ ہے یعنی مسئلہ کشمیر اُسے حل ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اُن کی یہی بات برداشت نہیں کی جا رہی۔

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے بی بی سی اردو کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا تعلق امریکہ سے نہیں بلکہ یہ آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان سوچ سمجھ کر اقدامات کر رہا ہے۔

Share this on...Share on FacebookEmail this to someonePrint this page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے