سیاست میں امی ابو وغیرہ کا کردار

یقین مانیے ڈاکٹر فاروق ستار نے گزرے ہفتے واقعی ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت بلکہ سیاست ہی چھوڑ دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا اگر ڈاکٹر صاحب کی والدہ محترمہ انھیں اپنا فیصلہ بدلنے کا عین وقت پر حکم نہ دیتیں۔

مگر یہ سہولت الطاف حسین کو حاصل نہ تھی۔ انھیں خود ہی کارکنان کی حالتِ زار پر ترس کھا کر ہر بار ‘نہیں بھائی نہیں بھائی’ کے جذباتی شور میں زیادہ سے زیادہ 12 گھنٹے کے اندر اپنا استعفی واپس لینا پڑتا تھا۔

الطاف بھائی نے 50 سے زائد مرتبہ استعفی دیا اور ہر بار ‘نہیں بھائی نہیں بھائی’ ان کے پاؤں کی زنجیر بن گیا۔ بالآخر تنگ آ کر انھوں نے گذشتہ برس 22 اگست کو ایسا ماحول پیدا کردیا کہ کارکنان ‘نہیں بھائی نہیں بھائی’ تک نہ کہہ سکے۔ یوں پہلی بار الطاف بھائی کو اپنی مرضی سے رخصت ہونے کا آزادانہ موقع مل گیا۔

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ سیاستدان کہ جن کے سیاسی و غیر سیاسی والدین کا سایہ سر پر رہتا ہے۔ دنیا کے کون سے ماں باپ ہوں گے جو اولاد کا برا چاہیں یا انھیں آگے نہ بڑھانا چاہیں یا بوقتِ ضرورت ان کے لیے ڈھال نہ بن جائیں یا انھیں گڑھے یا آگ میں گرنے سے نہ روکیں۔

پرانی سیاسی پیڑھی میں جہاں بہت سی خرابیاں گنوائی جا سکتی ہیں وہاں ایک خوبی مشترک تھی۔ وہ اپنی اولاد کو دعائیں تو دیتے مگر خود غیر سیاسی زندگی گزارتے یا اگر خود سیاستدان ہوتے تو اپنی اولاد کو سیاست پر تھوپنے یاجانشین بنانے کی شعوری کوشش سے بھاگتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے