فیس بک کو ایک دن میں اربوں ڈالر کا نقصان

سانس فرانسسکو: عالمی حصص مارکیٹ میں فیس بک کے شیئرز کی مالیت بیس فیصد نیچے آگئی جس کے باعث کمپنی کو ایک روز میں اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کی حصص مارکیٹ میں ڈیٹا لیکس اور روس کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی کے بعد ٹریڈنگ کے دوران فیس بک کے شیئرز کی قیمت بیس فیصد کم ہوگئی۔

شیئر مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کے بعد فیس بک کو ایک دن میں 17 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث سرمایہ کاروں نے مارک زکر برگ کو عہدے سے ہٹانے کی تجویزدے دی۔

حصص مارکیٹ میں شیئرز کی قیمتیں کم ہونے اور سرمایہ کاروں کی تجویز کے بعد فیس بک کے بانی اور انتظامیہ شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے، بلوم برگ بلینئر انڈیکس میں بھی مارک زکر برگ کی تنزلی کے بعد تیسری پوزیشن سے گر کر چھٹے درجے پر پہنچ گئے۔

واضح رہے کہ 12 جولائی کو  برطانوی حکومت نے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کی تحقیقات کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ کی روشنی میں فیس بک کو صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت نہ کرنے کے جرم میں 6 لاکھ 63 ہزار ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

برطانوی حکومت نے صارفین کی ذاتی معلومات کو بہتر انداز میں تحفظ فراہم نہ کرنے پر  فیس بک کو پہلی بار 6 لاکھ 63 ہزار ڈالرز جرمانہ ادا کرنے کی سزا کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ چند ماہ قبل سامنے آنے والے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے بعد سماجی رابطے کی ویب سایٹ کو کافی بدنامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کی ساکھ کو بھی بہت نقصان پہنچا تھا۔ فیس بک کے حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی اور ساتھ ساتھ مارک زکربرگ کو بھی امریکا کی قانون ساز اسمبلی میں پیش ہونا پڑا تھا۔

واضح رہے کہ برطانوی اور امریکی میڈیا کے مطابق سال 2014 میں کیمبرج اینالیٹیکا نے مبینہ طور پر ایک سافٹ ویئر کے ذریعے فیس بک استعمال کرنے والے 5 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری کیا تھا۔

کیمبرج اینالیٹیکا، ایک برطانوی کمپنی تھی، جسے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران دولت مند ریپبلکن ڈونرز کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے سرمایہ فراہم کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فیس بک صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے والی کیمبرج اینالیٹیکا کمپنی نے تحقیقاتی ادارے کو بتایا کہ کمپنی نے 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین تک غیر قانونی طور پر رسائی حاصل کی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حکومت نے تاحال صرف سزا کا اعلان کیا ہے، تاہم فیس بک کو تحقیقات کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جس کے بعد جرمانے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے