فیض آباد میں جاری دھرنا ختم کرانے کے لیے ممکنہ کارروائی مؤخر

پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے فیض آباد میں جاری مذہبی جماعتوں کا دھرنا ختم کرانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ کارروائی کو 24 گھنٹوں کے لیے موخر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پولیس اور ایف سی سمیت سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری فیض آباد اور اس کے گرد کے علاقوں میں موجود ہیں۔

سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل کرنا قانونی تقاضا ہے۔

انھوں نے مذہبی رہنماؤں اور مشائح سے معاملے کو ختم کرنے کے لیے مدد کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو تکلیف اور خونریزی سے بچانا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا ’ختم نبوت کا قانون پارلیمان سے منظور کیا جا چکا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور اس کی منظوری کے بعد دھرنا بلا جواز ہے۔ ‘

اطلاعات ہیں کہ ممکنہ آپریشن کے لیے فیض آباد سے راولپنڈی اور اسلام آباد آنے والی سڑکوں کو کنٹینرز رکھ کر بلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کے پاس آنسو گیس کے شیل بھی موجود ہیں اور امکان یہی ہے کہ انہیں اسی کی مدد سے منتشر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ادھر راولپنڈی اور اسلام آباد میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیض آباد کے گرد کی شاہراؤں پر خصوصی طور پر1122 کے اہلکار اور ایمبولینسز کو گذشتہ رات ہی ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے