جنسی تعصب کے خلاف کولمبیا میں طالبات کا منی سکرٹس میں احتجاج

 

کولمبیا میں ایک یونیورسٹی کو اس وقت شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ طالبات کو منی سکرٹ نہ پہننے کا مشورہ دینا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے ساتھ موجود ساتھیوں اور اساتذہ کی توجہ بٹ جاتی ہے۔

اس صلاح کو جنسی تعصب کا نام دے کر طلبا نے اپنے ساتھیوں کو پیغام دیا کہ وہ جمعرات کو منی سکرٹ پہن کر کیمپس آئیں۔

یو پی بی کے نام سے معروف میڈلین شہر کی پونٹیفیکل بولفیرین یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلبہ کو یہ مشورہ اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا تھا۔

احتجاج کے جواب میں یونیورسٹی نے کہا کہ اس کا مقصد صرف مشورہ دینا تھا۔

اپنے بیان میں یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ شخصی اظہار کے حق کا احترام کرتی ہے اور اس نے کبھی سٹوڈنٹس پر ڈریس کوڈ کے حوالے سے سختی نہیں کی۔

انتظامیہ نے ویب سائٹ پر لگائی جانے والی پہلی پوسٹ کو ہٹا دیا ہے۔

تاہم ہٹائی جانے والی پوسٹ جس ہیڈ لائن کے ساتھ لگائی گئی تھی وہ کچھ یوں تھی ’آپ کو کیسا لباس پہن کر یونیورسٹی جانا چاہیے۔‘

کچھ تجاویز تو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے بلا تخصیص جنس کے دی گئی تھیں تاہم بہت سے ایسی تجاویز تھیں جو خواتین کے لیے تھیں۔ جیسے ’اس سے زیادہ پریشانی اور کچھ نہیں کہ ہم جماعتوں اور اساتذہ کی توجہ بٹے۔ اس وجہ سے ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ گہرے گلے، شارٹ سکرٹ یا ٹائٹ فٹنگ والے کپڑے مت پہنیں۔‘

یہ تجاویز 30 جنوری کو پوسٹ کی گئی تھیں جس کے بعد طلبا و طالبات نے سوشل میڈیا پر اس ہیش ٹیگ کے ساتھ #UPBEnFalda آن لائن مہم چلائی۔ جس کا مطلب ہے یو پی بی منی سکرٹ میں۔

جمعرات کو سٹوڈنٹس نے منی سکرٹس میں اپنی تصاویر شیئر کیں۔

مقامی صحافی جینی گرلاڈو نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ اپنی کپڑوں کو چیک کرنے آئیڈیا دراصل اس خیال سے ماخوذ ہے کہ لوگ ریپ نہ ہوں اور دوسرے لوگ خود کو کنٹرول کر سکیں۔

ایک طالبہ ہیلینا نے ٹویٹ کی کہ وہ جو سوچ رہے ہیں کہ ہم گہرے گلے اور منی سکرٹ پہن کر اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں وہ غلط ہیں ہم ان پیغامات کو روکنا چاہتے ہیں جو خواتین کی بے عزتی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

سٹی کاؤنسلر ڈنیلا متورانہ نے بھی ٹوئٹ کی ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی عورت سکرٹ پہنتی ہے یا شارٹس یا کچھ بھی جو وہ چاہے۔ وہ سبز بتی نہیں اور یہ ہراسگی کے لیے دعوت نہیں ہے۔

Share this on...Share on FacebookEmail this to someonePrint this page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے