اسلامی نظریاتی کونسل: ’پاکستان میں بیک وقت تین طلاقوں کو قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے گا‘

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ بیک وقت تین طلاقوں کو قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے گا۔

بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سفارشات تیار کر لی گئی ہیں جو جلد ہی پارلیمان میں پیش کر دی جائیں گی۔

‘ہم اس پر بل تیار کر رہے ہیں جو وزارت قانون کو بھیجا جائے گا اور وہ اس پر سزا تجویز کرے گی۔ بیک وقت تین طلاقوں کی ممانعت کی جائے گی اور یہ قابلِ سزا جرم ہو گا۔‘

اس سوال پر کہ کیا بیک وقت تین طلاقیں دینے کی صورت میں طلاق ہو جائے گی تو قبلہ ایاز نے کہا: ‘طلاق تو ہو جائے گی تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ عدالت میں قاضی کرے گا۔‘

خیال رہے کہ انڈیا کی سپریم کورٹ نے گذشتہ برس اگست میں طلاقِ ثالثہ کو غیر آئینی قرار دیا تھا تاہم اس کی سزا سے متعلق قانون کا مجوزہ بل تاحال انڈین پارلیمان سے منظور نہیں ہو سکا۔

اس بل کے مطابق بیک وقت تین طلاقیں دینے والے شخص کو تین سال قید کی سزا ہو گی، طلاق بھی نہیں ہو گی، خاتون کو گزر بسر کے لیے خرچ بھی دینا ہو گا اور شوہر پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

 

Share this on...Share on FacebookEmail this to someonePrint this page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے