شام نے اسرائیلی جنگی جہاز مار گرایا

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کا ایک جنگی طیارہ شامی توپوں کے فائر کے دوران اس کی سرحدوں کے اندر مار گرایا گیا ہے۔

طیارے کے دونوں ہواباز طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور اب ان کا ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کا ایف 16 طیارہ شام کے اندر اس ایرانی ہدف کو نشانہ بنا رہا تھا جہاں سے اسرائیلی سرزمین کے اندر ایک ڈرون چھوڑا گیا تھا۔

اسرائیلی محکمۂ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رونن مینیلس نے کہا کہ یہ ڈورن اسرائیلی علاقے میں گرا اور وہ ’ہمارے قبضے میں ہے۔‘

شمالی اسرائیل کے شہروں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں۔ سرحدی علاقے کے اسرائیلی شہریوں نے کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات دی ہیں۔

’اسرائیلی جارحیت‘
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘ایک جنگی ہیلی کاپٹر نے ایک ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا جسے شام سے چھوڑا گیا تھا اور وہ اسرائیلی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔’

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ڈرون کو جلد ہی شناخت کر لیا گیا اور ‘اس کے جواب میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے شام کے اندر ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے ہفتے کو شامی فوجی اڈے کے خلاف اسرائیل کی طرف سے ’جارحیت‘ کے بعد فائر کیے۔ اس نے کہا کہ اس نے ایک سے زیادہ جہازوں کو نشانہ بنایا۔

ایران شام کے اندر کیا کر رہا ہے؟
ایران اور روس شامی صدر بشار الاسد کے اہم حمایتی ہیں اور وہ انھیں باغیوں کے خلاف لڑنے میں مدد دے رہے ہیں۔

گذشتہ نومبر میں مغربی انٹیلی جنس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تہران شام میں مستقل فوجی اڈا بنا رہا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ ’اسرائیل ایسا نہیں ہونے دے گا۔‘

ایران پر الزام ہے کہ وہ پورے خطے میں اپنا اثر و نفوذ چاہتا ہے۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار ٹام بیٹمین کہتے ہیں کہ اسرائیل کے شام میں فضائی حملے کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم شام کی طرف سے کسی اسرائیلی جہاز کو مار گرانے سے جنگ کے شعلوں کو مزید ہوا ملے گی۔

Share this on...Share on FacebookEmail this to someonePrint this page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے