شدت پسند حملے پر متنازع بیان، مسلمان گلوکارہ فرانسیسی ٹیلنٹ شو سے باہر

فرانس میں ایک مسلمان گلوکارہ کو سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد ٹی وی شو ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

22 سالہ مینیل ابتصام نے 2016 میں فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے ٹرک حملے کے بارے شکوک کا اظہار کیا تھا کہ آیا یہ واقعی دہشت گرد حملہ تھا۔

انھوں نے بعد میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا

مینیل ابتصام کو اس وقت شہرت ملی تھی جب ان کی ایک ویڈیو یوٹیوب پر وائرل ہو گئی تھی۔

انھوں نے بعد میں اپنا تبصرہ حذف کر دیا تھا۔

فرینچ میڈیا کے مطابق مینیل نے نیس حملے، جس میں 86 افراد ہلاک ہو گئے تھے، کے بارے میں کہا تھا کہ ‘اچھی بات ہے، یہ معمول ہی بن گیا ہے، ہر ہفتے ایک حملہ۔’

انھوں نے مزید لکھا: ‘اور وفادار دہشت گرد ہمیشہ اپنے ساتھ شناختی کارڈ ساتھ لیے پھرتا ہے۔’

انھوں نے فرانسیسی میں ہیش ٹیگ لگایا جس کا مطلب بنتا ہے: ‘ہمیں بےوقوف سمجھو۔’

نیس حملے میں ایک 31 سالہ مرد کو مجرم پایا گیا تھا۔

گلوکارہ کے اس تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر کہرام مچ گیا، اور بعض لوگوں نے کہا کہ یہ مرنے والوں کی توہین ہے۔ متاثرین کی تنظیم نے اسے ‘ناقابلِ قبول’ قرار دیا۔

اس کے بعد سے ٹیلی ویژن ادارے ٹی ایف ون پر اتنا دباؤ پڑا کہ مینیل کو شو سے نکالنا پڑا۔

تاہم کچھ لوگوں نے ان کا دفاع بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مینیل ابتصام نے اس کے بعد کہا کہ وہ دہشت گردی کی مذمت کرتی ہیں۔ جمعے کے روز انھوں نے اعلان کیا کہ وہ شو سے دست بردار ہو رہی ہیں۔ انھوں نے فیس بک پر بیان میں کہا: ‘میں کسی کو دکھ دینا نہیں چاہتی تھی۔

Share this on...Share on FacebookEmail this to someonePrint this page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے